"ماما! میں نے آج نماز پڑھی ہے، آپ کہتی ہو نا نماز پڑھا کرو
اور میں نہیں پڑھتی۔ پڑھ لی ہے۔ سوچیں کیا کی ہو گی دعا۔
اللہ جی! میں کمینی، پاگل، گناہ گار، دیوانی کسی کی، لالچی خوشیوں کی، میں سدرا۔
تیرے پاس آئی ہوں، میرے پاس اور ہمت نہیں ہے۔
اب نہیں سمجھ آ رہی، ہمت دینا تُو مجھے، میں نے پہلے تم سے کبھی مدد نہیں مانگی لیکن آج کر دینا۔
میرے جانے کے بعد اللہ جی، ہمت دینا میرے ماما پاپا کو، ان کا کوئی قصور نہیں ہے، میں ہی ہوں بری۔
ماما پاپا! یہ میرا آخری خط ہے۔
ماما پاپا! معاف کر دیجیے گا مجھے، مجھے نہیں سمجھ آئی کیا ہوا، میں نہیں کچھ سمجھ پائی...
آج کے بعد ہم کبھی مل نہیں پائیں گے۔
ماما! پاپا کا آپ کو پتا ہے، غصے میں کچھ سمجھ نہیں آتا انہیں، ہوش کھو بیٹھتے ہیں وہ۔
سنبھال لینا آپ سب کچھ۔
بابا! آپ معاف کرنا مجھے۔
ماما آج سے 17 سال، 2 مہینے، 15 دن پہلے میں پیدا ہوئی تھی۔
دادی اماں جب زندہ تھیں بتایا کرتی تھیں کہ جس دن میں
پیدا ہوئی، بابا بہت ہی خوش تھے...
"بیٹی ہوئی ہے، بیٹا ہونا چاہیے تھا!"
، اس لیے سلیم تایا کو یہ بات پریشان کر رہی تھی،
اور میرا بھائی اتنا خوش تھا، تو تایا سلیم (تایا ابو) بولے کہ "ابھی سے جہیز کی فکر شروع کر دو!"
تو سنا ہے، پاپا نے کہا تھا کہ
"یہ تو قسمت والوں کو ملتی ہیں، میں خوش قسمت ہوں،
رب نے مجھے نوازا اور رب کی عنایت پر میں جتنا شکر ادا کروں کم ہے..."
دادی کہا کرتی تھیں،
"مرد بیٹی کے پیدا ہونے پر تب ہی خوش ہوتا ہے، جب اُس کا ماضی صاف ہو..."
ماما ٹھیک تھیں، جب منہ اٹھا کے کچھ بھی فرمائش کر دیتی تھی، اور آپ پوری کر دیتے تھے۔
تو آپ کو نہیں تھی پوری کرنی چاہئے
بابا کا تو بس چلے تو وہ
میں ایک کھلونا مانگوں اور وہ پورا بازار خرید ڈالیں۔
اور کہیں "لاڈلی یہ سبھی تمہارے ہی ہیں"۔
میرا خواب تھا کہ میں اپنے ڈریم کالج میں پڑھوں، بابا کو پتا تھا، انہوں نے نا نہیں کی۔
دیکھیں نا، ہماری ہی تو فوزیہ ہے جس نے میرے ساتھ میٹرک کیا لیکن اس کے بابا نے نہیں کروایا اس کا ایڈمیشن اور اس کی میٹرک کے بعد شادی کر دی۔
ماما! آپ نے بھی کوئی کمی نہیں رہنے دی،
مجھے نیل پالش پسند تھی اور بابا منع کرتے تھے، آپ نے بازار سے سب سے مہنگی نیل پالش لا کے دی۔
اور آہستہ سے مجھے کہا کہ دیکھنا بابا کو نہ پتا چلے۔
آپ کو پتا ہے مجھے کیا پسند ہے، کیا نہیں۔
جب بابا کی پسند کا کچھ بنتا اور وہ مجھے پسند نہ ہوتا تو، میرے لیے الگ سے کچھ بناتی آپ۔
مانا آپ ایک بات جان لیں،
آپ کو پتا ہے مجھے آلو کی بھجیا پسند ہے اور ماما ہر دفعہ بھجیا نہیں بنایا کرتے،
انسان ہوں، ذائقے تبدیل ہوتے رہتے ہیں،
لیکن ماما پھر بھی ٹھیک ہیں،
آپ نے کبھی مجھے یہ احساس نہیں دلایا کہ میں تمہارے لیے اتنا کرتی ہوں۔
شہزادی بنا کر رکھا ہے آپ نے مجھے۔
میں تب سولہ کی تھی..
۔ایک دفعہ شادی سے تھکے ہارے لوٹے،
شادی میں چچا تیمور کے بیٹے فہد کے ساتھ۔
میں جہاں سب ڈانس کر رہے تھے، وہاں میں نے بھی کیا تھا۔
لوٹے تو دادی امّاں کہنے لگیں،
"پاس آؤ میرے۔"
پاس گئی تو ماتھا چوما اور کہا:
"تمہیں پتہ ہے، لڑکی سب سے زیادہ خوبصورت کب ہوتی ہے؟"
میں نے کہا، "نہیں پتہ۔"
تو دادی اماں بولیں:
"جب وہ لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھتی ہے..."
"اور دوسرا تب، جب اُس کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوتی ہے..."
تب اُس کے چہرے کی لالی کسی کوہِ نور سے کم نہیں ہوتی۔
اور ایک بات، سدرا، تم ہمیشہ یاد رکھنا...
نئی جوانی میں بہک جانے والی لڑکی... بہک جاتی ہے تو پھر وہ کہیں کی نہیں رہتی۔
میں نے کہا:
"مگر دادی اماں، آپ مجھے کیوں بتا رہی ہیں؟"
دادی اماں مسکرائیں اور بولیں:
"وقت آنے پر تم خود سمجھ جاؤ گی..."
وقت آ گیا ہے، مما…
اور اب … ماما… میں بہک گئی ہوں۔
ماما، آپ کو یاد ہے؟
جس دن خالہ عصمت آئی تھیں…؟
پتا ہے کیا بولی تھیں؟
اور دادی نے ڈانٹ دیا تھا…
حالانکہ خالہ نے ایسا کچھ خاص نہیں کہا تھا…
بس اتنا کہہ دیا:
"سدرہ کے ہاتھ پیلے کر دو، سولہ کی ہو گئی ہے۔
میرا مسعود اکیس کا ہو گیا ہے، خدا کے کرم سے۔
بارہویں کے بعد مکینیکل انجینئرنگ کا ڈپلومہ کیا تھا،
اور خیر سے دو لاکھ تنخواہ ہے اُس کی!"
اتنا کہنا تھا کہ دادی نے فوراً ڈانٹ دیا اور کہا:
"ہماری گڑیا ابھی چھوٹی ہے!
اور انور کا شوق ہے کہ یہ بہت کچھ پڑھے —
اسی لیے یہ ابھی پڑھے گی!
اور آئندہ ایسی بات نہ کرنا!"**
اور ماما… دادی کی گڑیا اب بڑی ہو گئی ہے…
اچھا بابا! میرا فیصلہ غلط ہے، لیکن بابا ماما، میرے پاس کوئی حل نہیں بچا...
---
بسم اللہ:
پہلے ہم گھر میں پانچ لوگ رہتے تھے،
ماما اور پاپا ایک کمرے میں سوتے،
میں، دادی اور بھائی ایک کمرے میں...
پھر بھائی باہر (ابروڈ) چلا گیا اور دادی دادا کے پاس چلی گئیں...
ویسے جو لوگ چلے جاتے ہیں، وہ واپس کیوں نہیں آتے؟
کیا پتہ اُنہیں ہماری یاد آتی ہو، مگر پھر وہی کی چیزوں میں مگن ہو کر ہمیں بھول جاتے ہوں...
سنا ہے وہ ہماری سنتے ہیں جب ہم کچھ پڑھ کر اُنہیں پھونکتے ہیں،
تو "تھینک یو" بولتے ہیں،
اور جب ہم اُنہیں کچھ نہیں پھونکتے تو وہ کہتے ہیں، "ویری سیڈ"...
مگر خیر، میں کن باتوں میں لگ گئی...
بڑے بھائی کے باہر جانے کے بعد، اب ہم گھر میں تین لوگ تھے: میں، بابا اور ماما۔
میٹرک میں میرے نمبر بہت اچھے آئے تھے،
بابا نے کالج میں ایڈمیشن دلایا، وہاں میری ایک دوست بنی، اس کا نام تھا "سعدیہ"۔
ہم ایک دوسرے سے آہستہ آہستہ کافی قریب ہو گئیں، اور اچھی سہیلیاں بن گئیں۔
میں اس جیسی اور وہ میری جیسی۔
بالکل ایک جیسی کاپی!
فرق بس اتنا تھا کہ وہ گوری رنگت، حجاب کرنے والی، پکی پکی ہاجن نمازن،
دور سے دیکھو تو چہرہ چمکتا تھا اس کا،
اوپر سے دھیمی سی لپ اسٹک لگا کر آتی،
لپ اسٹک تو لگا کر غضب، مطلب بہت خوب، کمال کی دیکھ-تی ۔
اور میں ٹھہری بابا آدم کے زمانے کی ،
اتنا سجنے سنورنے کا شوق نہ تھا ،
صبح اٹھ کر ہاتھ منہ دھو کر سیدھا ناشتہ کرتی، یونیفارم پہنتی، بال بناتی،
حجاب نہ کرتی، بس دوپٹہ لیا اور چلی جاتی کالج۔
کالج سے گھر، اور گھر سے کالج،
لیکن گھر میں چپ چاپ سی رہتی،
ماما تھیں، ان سے بھی بس معمول کی باتیں ہوتی تھیں:
برتن، کپڑے، کھانا، بلا بلا...
پھر ایک دن ہماری کلاس میں ایک نئی لڑکی آئی،
شاید سیکشن IM-01 سے چینج کروا کے آئی تھی سیکشن IM-02 میں۔
نام تھا اُس کا رابعہ، مت پوچھو اُس کی ظاہری حالت،
سمجھ لو جیسے لکس کی صبا قمر ہو۔
بال خوب بنا کر آتی، رنگ گورا اور اوپر سے میک اپ ایسا کر کے آتی
جیسے کالج نہ ہو کسی ولیمے پر آئی ہو۔
دیکھنے میں کسی امیر باپ کی لگتی تھی۔
پہلے دن جب وہ روم میں داخل ہوئی تو، میم مریم کا لیکچر تھا۔
ہمارے ساتھ والی کرسی خالی دیکھ کر میم نے انگلی کے اشارے سے کہا: "آپ سعدیہ لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔"
کچھ دن گزرے، اب ہم تین دوستیں بن چکی تھیں — میں، رابعہ اور سعدیہ۔
اوہ ہاں! ایک چیز تو بتانا بھول ہی گئی میں —
ہماری کلاس میں بریک کے وقت کوئی بھی باہر نہیں جایا کرتا تھا۔
پوچھو کیوں؟
اچھا، میں ہی بتاتی ہوں۔
ہماری کلاس میں لگا کرتی تھی "محفل"…
اب پوچھو گے محفل کیا؟ کون سی محفل؟
مگر میں تو بھول ہی گئی، آپ کیسے پوچھو گے —
یہاں تو میں ہوں ہی اکیلی۔
چلیں خیر…
ہوتا یہ تھا کہ لاریب نام کی لڑکی "لو اسٹوریز" سنایا کرتی تھی۔
لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، رام لیلا،
کبھی یہاں کی، کبھی وہاں کی کہانی، کبھی فلاں کی اسٹوری،
تو کبھی دائیں بائیں کی داستانیں — اور سب شوق سے سنتے۔
ہم تینوں بھی بہت شوق سے سنا کرتی تھیں۔
ایک دن ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے، میں نے رابعہ سے پوچھا:
"گھر جا کے کیا کرتی ہو؟"
اُس نے بتایا:
"کچھ خاص نہیں۔"
میں نے پھر بھی اصرار کیا:
"پھر بھی؟"
کہنے لگی:
"میرے ڈیڈ ایک سرکاری ڈاکٹر ہیں، وہ تو اسلام آباد میں ہوتے ہیں۔ ماما بھی ڈاکٹر ہیں، وہ بھی زیادہ تر ڈیوٹی پر ہی ہوتی ہیں۔
گھر میں صرف میں، میرا چھوٹا بھائی، اور ایک ملازِمہ ہوتے ہیں۔
گھر جا کے یہی کہ یونیفارم چینج کیا، اور فون — جانے اور میں جانو!"
میں نے فوراً پوچھا:
"تم پورا دن فون کیسے یوز کر سکتی ہو؟ فون پر کرتی کیا ہو؟"
تو کہنے لگی:
"بہت کچھ…"
سب سے پہلے یوٹیوب پر
ولاگز وغیرہ دیکھتی ہوں، اُس کے بعد دل کرے تو ٹک ٹاک، اور پھر اس کے بعد ہولو چیٹ چلاتی ہوں۔
"ہولو چیٹ" — یہ کس بلا کا نام ہے؟
کیونکہ میرے پاس تو اپنا پرسنل موبائل بھی نہیں تھا!
پوچھا:
تو بتانے لگی:
"اسنیپ بنا سکتے ہیں، سینڈ، رِسیو کر سکتے ہیں، ہم آن لائن دوست بھی بنا سکتے ہیں۔"
میرے ذہن میں سوالات ہی سوالات تھے:
"اس میں کیا ہوتا ہے؟
اس کی ضرورت کیا ہے؟"
اسی وقت رابعہ بولی:
"ہم فرینڈز بنا سکتے ہیں، جن سے بندہ بات کر سکتا ہے۔"
اور خود ہی بتانے لگی:
"تیری دوست کا ایک بیسٹ فرینڈ بھی ہے، جس سے میں ساری باتیں شیئر کر لیتی ہوں، اور وہ بیچارا سنتا رہتا ہے۔"
بیچارا اس لیے — جو سب کچھ سن لیتا ہے، مان لیتا ہے...
میرے منہ سے اچانک نکلا:
"ہائے توبہ توبہ! رابعہ تُو لڑکے سے بات کرتی ہے؟"
وہ بولی:
"اس میں کون سی نئی بات ہے؟ سب کرتے ہیں!"
میں جھٹ سے بولی:
"بہت بری بات ہے! اور رہی بات 'سب کرتے ہیں' — تو سب لوگ ایسے نہیں ہوتے!"
وقت گزرتا گیا۔۔۔
اب رابعہ سے اچھی خاصی دوستی ہو چکی تھی۔
جیسے وہ جدید لگتی تھی، دیکھنے سے یوں محسوس ہوتا جیسے اُسے کسی کی پرواہ نہ ہو۔
کوئی جیے یا مرے، اُسے کیا فرق پڑتا ہے؟
لیکن دل کی وہ بالکل ویسی نہ تھی۔
چھوٹی چھوٹی باتیں دل پر لے لیتی تھی،
اور کبھی کسی کا دل دُکھاتی نہ تھی۔
رابعہ ہمیشہ اپنے دوست کا ذکر کرتی رہتی،
کہ وہ میرا کتنا خیال رکھتا ہے،
ایسا ہے، ویسا ہے۔
"جیسے تمہیں پتا ہے، کل میں نے نئے کپڑے پہنے تھے۔
تصویر بھیجی، تو کہنے لگا:
'رابعہ، اس کے ساتھ سنہری رنگ کے جھمکے ہوتے تو کیا ہی بات ہوتی!' "
اور ہاں، پھر میں جان بوجھ کر ناراض ہو گئی۔
کہا: "میں نہیں، کھانا نہیں کھا رہی۔"
اور موبائل کا ڈیٹا بند کر دیا۔
جب دوبارہ آن کیا…
تو میسجز ہی میسجز کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔
مجھے یہ سب عجیب اور نیا لگتا تھا،
لیکن دھیرے دھیرے تجسس بڑھتا گیا۔
اور جانے انجانے میں…
جلن بھی تھی، اور حسد بھی۔
کہ رابعہ کو وہ کتنا سمجھتا ہے،
جلن اور حسد تو ہوتا ہی ہے،
جب کوئی آپ کے سامنے خوش ہو
اور آپ کو بھی وہی خوشی چاہیے ہو…
اور وہ آپ کے پاس نہ ہو۔
ہر طرف لوگ تھے،
کالج میں سعدیہ اور رابعہ،
اور گھر میں میرا کوئی ہم عمر نہ تھا۔
میرے پاس اپنا ذاتی موبائل نہیں تھا،
ایک دن امّی کے فون میں میں نے ہولو چیٹ ڈاؤنلوڈ کر لی۔
اور صرف رابعہ کو اپنی فرینڈ لسٹ میں شامل کیا۔
کالج کی طرف سے ایک ویلکم پارٹی رکھی گئی،
جہاں لڑکے لڑکیاں ساتھ شریک تھے —
دونوں کیمپسز کی مشترکہ پارٹی تھی۔
وہاں رابعہ کا میل فرینڈ بھی آیا ہوا تھا،
اور اُس کے ساتھ اُس کا ایک اور دوست بھی تھا۔
کافی اچھا ڈریسنگ سینس تھا اُس کا —
رنبیر کپور کا چھوٹا بھائی لگ رہا تھا۔
وہ مجھے مسلسل دیکھتا رہا…
لیکن مجھ سے کوئی بات نہ کی۔
پارٹی کے بعد میں رابعہ کے ساتھ ہی تھی،
نہ جانے کب وہ چپکے سے آیا
اور رابعہ سے میری ہولوگرام آئی ڈی لے گیا۔
میں تھکی ہاری،
گھر پہنچی…
لیٹی ہوئی تھی کہ فون بجا،
ایک نوٹیفکیشن آیا:
"Asim Added You As a Friend"
پہلے تو میں نے نظر انداز کر دیا،
مگر تجسس نے مجبور کیا
"Accept" کا بٹن دبایا…
اور بات چیت کا آغاز ہو گیا۔
(Wrong Turn)
ہماری بات شروع ہو گئی۔
میں نے اس سے پہلے کبھی کسی انجان لڑکے سے بات نہیں کی تھی۔
یہاں تک کہ خاندان میں بھی اگر کسی کزن سے سامنا ہو جاتا،
تو میں نظریں چرا کر گزر جاتی۔
یہ پہلی بار تھا۔
آصف بھی اسی کالج میں تھا جہاں میں پڑھتی تھی،
لیکن ہم کبھی ملے نہیں تھے۔
پارٹی کے علاوہ میں نے اُسے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔
جب "ہولو چیٹ" پر بات ہوئی،
تو وہ ایک عام سا لڑکا لگا —
تھوڑا فنی، تھوڑا فرینڈلی،
بالکل "عشق مرشد" کے بلال عباس جیسا۔
ہر دن باتیں بڑھتی گئیں...
کبھی رینڈم اسنیپس، کبھی دل کی گہرائیوں سے کی گئی باتیں۔
مشکل صرف یہ تھی کہ میرے پاس اپنا پرسنل موبائل نہیں تھا،
اور بھائی ابھی ابروڈ جا کر مکمل طور پر سیٹ نہیں ہوئے تھے
کہ ان سے کہا جا سکے کہ موبائل بھیج دیں۔
پھر بھی،
اب بات تو کرنی تھی نا۔
تو جب ماماں سو جاتی تھیں،
ہم رات دیر تک باتیں کرتے رہتے۔
پہلی بار مجھے یوں لگا جیسے کوئی ہے
جو مجھے سمجھتا ہے،
کوئی ہے جس سے بات کرکے میری تنہائی
تھوڑی کم ہو سکتی ہے۔
یونہی سمجھ لو…
اب تو ایسے بھی سوچتی تھی کہ:
ہم دو جسم، ایک روح ہیں۔
اور سب سے اچھی بات یہ کہ وہ ہر بات کو سمجھنے والا تھا۔
اس کا انداز ایسا تھا کہ بندہ جلد ہی اس کی باتوں میں کھو جائے۔
ہمارا کالج صبح 7:30 پر لگتا تھا،
پورے 7:25 پر ہماری کالج بس، جس میں میں ہوتی تھی، بوائز کیمپس کے سامنے سے گزرتی تھی،
اور وہ روزانہ وہیں انتظار میں کھڑا ہوتا تھا،
ہمارا صرف آنکھوں کا رابطہ ہوتا، ذرا سا بس،
اور بس آگے نکل جاتی تھی۔
لیکن یہ لمحے میرے لیے کسی جنت سے کم نہ تھے،
میں تو سمجھتی تھی کہ شاید یہی جنت ہوگی۔
میرے لہجے اب بدل رہے تھے،
دن بہ دن چڑچڑی سی ہو رہی تھی،
ہر لمحے میرا موڈ بدلتا رہتا تھا،
مجھے خود پتہ نہیں چلتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔
میں نے عاصم سے پوچھا،
"بتاؤ، میں پاگل واگل تو نہیں ہو رہی؟"
تو کہنے لگا،
"دیوانی! تمہیں محبت ہو گئی ہے،
ہے… اور محبت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
محبوب کے علاوہ کوئی اچھا نہیں لگتا۔"
میں نے کہا،
"فرینڈز میں محبت کیسی؟"
کہتا:
"کچھ نہیں، مذاق کر رہا تھا…"
اور تھا بھی ایسا ہی،
مجھے کوئی اور اچھا لگتا بھی نہیں تھا۔
سعدیہ سے میں بیٹھ کر کالج میں جب عاصم کی بات کرتی تو وہ مجھے روکتی ٹوکتی،
اور اُس کا روکنا ٹوکنا، مجھے زہر لگتا تھا۔
مجھے لگتا تھا جیسے وہ مجھ سے میری خوشی سے جلتی ہے۔
ایک دن اُس نے میری ماما کو میرے اور عاصم کے رشتے کے بارے میں بتا دیا۔
ماما، آپ نے پہلے تو مجھے بہت سخت ڈانٹا، پھر کہا:
"میرے پاس بیٹھو اور سنو۔"
ماما، آپ نے مجھے سمجھایا کہ:
"اس عمر کا لگا داغ قبر تک ساتھ چلتا ہے،
اس کچی عمر میں سب کی نظریں آپ پر ہوتی ہیں،
اور چھوٹی سی غلطی بہت بڑا گناہ بن جاتی ہے۔"
(ماما، آپ کی ساری باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر رہی تھیں،
بلکہ میں سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھی۔)
"اور ایک بات اپنے ذہن میں بٹھا لو…
آج کے بعد تمہیں فون نہیں ملے گا۔"
ہمیں سموگ کی وجہ سے چھٹیاں تھیں،
تو میری نفرت سادیہ کے لیے بڑھتی گئی۔
دس دن بعد جب میں دوبارہ کالج گئی تو،
میرا غصہ اب عروج پر تھا۔
میری اور سادیہ کی بہت شدید لڑائی ہوئی…
اور میں نے غصے میں سادیہ کو بہت کچھ سنایا۔
میں نے کہا:
"ایسے لوگوں کو منہ ہی نہیں لگانا چاہیے جو دوسروں کی خوشیوں سے جلتے ہیں…
ایسے لوگ جل کے مر کیوں نہیں جاتے؟"
آگے سے وہ خاموش تھی،
اور اُس کے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے۔
اور اُس نے بس ایک بات کہی:
"صدرا، یاد رکھنا… رب دیکھ رہا ہے۔"
اس کے بعد سادیہ نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی۔
وہ کالج آتی،
اور خاموشی سے ایک طرف بیٹھی رہتی۔
اس کے اندر ہی اندر کچھ تھا،
جو اُسے کھائے جا رہا تھا۔
شاید یہی پچھتاوا کہ اُس نے مجھ سے دوستی کیوں کی…
یا پھر شاید بددعائیں دیتی ہوگی،
پتا نہیں کیا تھا۔
مگر خیر…
اب کالج سے گھر جا کر
جب مجھے موقع ملتا اور ماما ایک طرف ہوتیں،
تو میں عاصم سے بات کر لیتی،
اور رات کو جب ماما سو جاتیں،
تو میں آرام سے اُن کے پاس سے فون اٹھا کر
ساری رات عاصم سے بات کرتی۔
ماما کو شاید کچھ شک ہو گیا تھا،
اور ایک رات میں پکڑی گئی۔
انہوں نے مجھے وارن کیا:
"اب کی بار میں تمہارے پاپا کو نہیں بتا رہی،
لیکن اگر یہی حرکت دوبارہ ہوئی تو
دیکھ لینا پھر اپنا انجام۔"
اگلے روز میں نے موقع پا کر عاصم سے بات کی،
تو اس نے بتایا کہ "میرے پاس اس کا حل ہے۔"
میں نے پوچھا: "کیا؟"
بولا: "غصہ کرو گی تم۔"
میں نے کہا: "بولو، تم نہیں بولو گے، پھر بھی میں غصہ ضرور کروں گی۔"
اس نے کہا: "سلیپنگ۔۔۔"
میں نے کہا: "سلیپنگ کیا؟"
کہنے لگا: "خود سمجھ لو۔"
میں نے کہا: "بتاؤ!"
کہنے لگا: "سلیپنگ پلز۔"
میں نے کہا: "نہیں نہیں یار، ایسا کچھ نہیں کرنا!"
لیکن پھر مجھے لگا شاید یہی حل ہے،
ورنہ عاصم سے بات نہیں ہو پائے گی۔
محبت کی ایک بات تو ماننی پڑے گی کمبخت…
انسان کو باغی بنا دیتی ہے۔
"اچھا ٹھیک ہے بابا، تم مجھے بتاؤ وہ کہاں سے آئیں گی؟"
کہنے لگا: "وہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔"
"اوکے، ڈن! تم پر چھوڑ دیا۔"
اگلے روز جب میں کالج سے واپسی پر بس سے اترنے لگی،
تو عاصم نے پہلے ہی بس ڈرائیور سے سیٹنگ کر رکھی تھی۔
ڈرائیور نے کہا:
"یہ آپ کی امانت۔۔۔"
اور ایک پیکٹ میری طرف بڑھایا۔
میں نے کہا: "کون سی کہاں کی امانت؟"
کہنے لگا: "رکھ لو۔"
ایک پیکٹ تھا، اوپر سے ڈھکا ہوا۔
میں نے لے لیا۔
میں نے بیگ کی زِپ کھولی اور بیگ کے اندر رکھ دیا۔
جب میں نے دیکھا کہ ماما پاس نہیں ہیں،
تو بیگ سے پیکٹ نکالا اور کھولا،
تو اُس میں پچاس سلیپنگ پلز تھیں…
رات سونے سے پہلے ماما اور پاپا کو دودھ گرم کر کے دیا کرتی تھی،
تو میں نے روز کی ایک گولی
دودھ میں ملانا شروع کر دی۔
اور جب ہفتے کی رات آتی،
تو میں دو گولیاں ملا دیتی تاکہ
ماما اور پاپا میں سے کوئی اُٹھ نہ پائے۔
ایک مہینے تک یہی چلتا رہا۔
اور جب گولیاں ختم ہونے کو آئیں،
تو میں نے عاصم کو بتایا
اور اُس نے اُسی طریقے سے مجھے دوبارہ گولیاں پہنچا دیں۔
ایک دن دیوانہ (عاصم) بولا:
"مجھے تم اچھی لگتی ہو۔"
میں نے کہا:
"مجھے آپ بھی اچھے لگتے ہو۔"
تو کہنے لگا:
"مجھے تم بہت زیادہ اچھی لگتی ہو۔"
میں نے کہا:
"مجھے آپ بھی بہت زیادہ اچھے لگتے ہو۔"
کہنے لگا:
"شادی کرو گی مجھ سے؟"
(میں، دیوانی، یہ سننے کے لیے کب سے منتظر تھی!)
میں نے کہا:
"قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے!"
کہنے لگا:
"دیوانی، نکاح نہیں ہو رہا ہمارا!"
میں نے کہا:
"میرا تو ہو گیا…
اب آپ بھی بولیں:
قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے!"
ہمارا کافی اچھا بانڈ بن چکا تھا…
اب ہماری بات صرف میسج پر ہی نہیں،
کال پر بھی ہونے لگی تھی۔
کال سے ہم ویڈیو کال پر آ گئے…
ماما، پاپا کو جب سلیپنگ پلز دے سُلا دیتی تھی۔ —
اس کے بعد گھنٹوں گھنٹوں ہماری
ویڈیو کال پر بات چلتی رہتی۔
اگر بول کر بات نہ بھی ہوتی —
تو نظروں سے بات کر لیا کرتے۔
دیکھ دیکھ کر بڑا سکون ملتا تھا…
اور کئی دفعہ تو یہ ہوتا کہ، کہ میں دیکھتی ہی دیکھتی سو جاتی تھی
ایک شب بولا: "تم نے کبھی سوچا ہے، ہمارے بچے کتنے ہوں گے؟"
" میرے خیال سے
بارہ تو ہونے چاہئیں..."
"نہ بابا نہ..."
"بچے دو ہی اچھے..."
"ایک لڑکی ہوگی اور ایک لڑکا"
"اگر لڑکا ہوگا تو...
عامر کیسا ہے؟
عامر عاصم؟"
"نہیں نہیں، یہ نہیں ٹھیک... کچھ اور سوچو..."
"طلحہ عاصم؟
ہاں، یہ ٹھیک ہے..."
"اور بیٹی کا؟
ہوریہ عاصم؟
ہاں ٹھیک ہے بابا..."
"بولا: ویسے میرے خیال سے دونوں لڑکے ہی ہونے چاہئیں..."
اور تم مجھے یہ بتاؤ:
بچے کہاں سے آئیں گے؟
میں بولی: "مجھے نہیں پتا..."
کہنے لگا:
"اچھا، تمہیں بتاتا ہوں کہاں سے آئیں گے —
تمہارے پیٹ سے..."
میں ہنسی، تو بولا:
"اچھا، رومانس کرتے ہیں؟"
میں بولی: "کیسے؟"
تو کہنے لگا: "یہی..."
"یہی کیسے؟"
اچھا، میں نے تمہارے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہیں،
بتاؤ، تمہیں محسوس ہو رہا ہے؟
سنگِ مرمر جیسے ہاتھوں میں، ایک مضبوط مرد کے ہاتھ..."
(سچ پوچھو تو… محسوس ہو رہا تھا مجھے...)
ہاں ہو رہا ہے محسوس، جیسے ہاتھ نہ ہوں ادھورا ہو سنگِ مرمر کے ہاتھوں میں۔۔۔
ہم ہگ کریں؟
میں بولی ہاں کرتے ہیں۔
اب میرا ہاتھ تمہاری کمر سے اٹھتا ہوا ،
تمہارے جسم کو مسلتے ہوئے۔۔۔
تمہاری گلے کی نسوں کو مسل رہا ہے۔۔۔
شٹ اپ عاصم۔
آج بہت وقت بعد جیسے میرے ضمیر نے جیسے کس کے تھپڑ مارا ہو...
اور کہا ہو بے شرم بس کر،
خدا کا نہ سہی، ماں باپ کا خیال کر،
مجھے چپ سی لگ گئی،
اور میں نے عاصم کو کہا صبح بات کرتے ہیں...
Bye..
ہمیں رب نے جب آدم کی پسلی سے بنایا اُس کے بعد سے ہماری ایک نیچر ہے...
ہم اپنی بیسٹ فرینڈ سے سب کچھ شیئر کریں گی، سب باتیں، چغلیاں، اور راز کی باتیں بھی،
بریانی بھی شیئر کر لیں گی،
مگر جب بات چاکلیٹ کی آئے گی تو پھر کوئی شیئرنگ کیئرنگ والا سین نہیں ہے...
مام تسمیہ میری فیورٹ ٹیچر تھیں،
گورے رنگ کے ساتھ اخلاق بھی بہت اچھا تھا اُن کا، کافی میچور تھیں،
سنا ہے کہ اُن کی شادی کو سات سال ہو گئے اور ایک پیارا سا بچہ بھی ہے اُن کا — پانچ سال کا۔
مگر اُنہوں نے اپنی فِٹنیس کا ایسا خیال رکھا ہے کہ کوئی دیکھ کے نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔
میں تو سوچتی تھی کہ اُن کے ہزبنڈ کتنے لکی ہوں گے...
ایک دفعہ کالج فنکشن پر وہ اپنے شوہر کے ساتھ آئیں تو...
اُن کا کوئی تال میل نہیں بن رہا تھا،
قد تو ٹھیک تھا دونوں کا،
مگر کہاں مام دودھ سی رنگت والی اور کہاں اُن کے شوہر ایک معمولی سے، کھردرے رنگ والے...
اس دن لگا کہ مام کے شوہر لکی ہیں، اور مام کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے،
اور اس کا انصاف خدا ہی کرے گا...
آصف کو بھی وہی پڑھایا کرتی تھیں،
باتوں ہی باتوں میں ہماری گفتگو میں مام تسمیہ کا ذکر آ گیا،
کہنے لگا: "مام کتنی خوبصورت ہیں اور اتنی اچھا بولتی ہیں..."
تو میرے منہ سے کیا نکلا پتا ہے؟
میں نے کہا: "کہاں خوبصورت ہے وہ کمینی...
تم مجھے یہ بتاؤ تم نے اُسے دیکھا کیوں؟
تم اُسے دیکھتے کیوں ہو؟"
تم سے کہا تھا بےایمانی نہ کرنا...
مگر پھر بھی تم نے کی...
تم سے خدا پوچھے گا،
اور بےایمانوں کے لیے خاص رب نے جہنم بنائی ہے،
اور تم جہنم میں "جاؤ گے۔
تم نے نیوٹن کا تھرڈ لا آف موشن تو پڑھا ہو گا؟
نہیں یاد؟ تو بتاتی ہوں:
"For every action, there is an equal and opposite reaction."
یاد رکھنا، اگر بےوفائی کی تو نیوٹن کا تھرڈ لا لگے گا...
( — تم بےوفائی کرو گے، تو میں بھی بےوفائی کروں گی۔)
پتہ ہے عورت کو "شیئرنگ" کیوں پسند نہیں؟
بلکہ یہ کہنا ہی غلط ہے کہ عورت کو شیئرنگ پسند نہیں۔
عورت تو پھر بھی مان جاتی ہے،
کبھی مرد کی ضد پر...
کبھی ماں نہ بن سکنے کے دکھ پر...
کبھی مرد کے جوان اور اپنے بوڑھے ہونے پر...
یا کبھی مرد کو حرام سے بچانے کے لیے!
مگر مرد؟ وہ نہیں مانتا۔
ذرا سوچو تو،
اگر عورت کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہوتی،
اور وہ کہتی کہ چار کیا — دو شوہر ہی رکھ لوں،
تو مرد کی غیرت فوراً جاگ جاتی۔
نہ مرد مانتا،
نہ برداشت کرتا۔
اصل میں... خالق نے عورت کو ایک طاقت بخشی ہے۔
وہ دل بڑا کر لیتی ہے...
مرد نہیں کرتا۔
جب محبت کی جاتی ہے تو محبت کی آفر میں جھوٹ بولنا بونس ملتا ہے۔۔۔
پھر جھوٹ بول دیے جاتے ہیں، کبھی بھی کہیں بھی،
جب رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے آنکھیں خراب ہو جائیں اور ان میں سوجن ہو جائے تو پھر مسئلہ آئی شیڈ، مسکارا یا آئی لائنر کے سائیڈ ایفیکٹ کا نکال دیا جاتا ہے۔۔۔
کالج کا کام نہ کرنے کی وجہ گھر میں آنے والے مہمان پر ڈال دی جاتی ہے۔۔۔
مہمانوں کو اگر بخش دیں تو گورنمنٹ کی لوڈ شیڈنگ پر اور کبھی پنکھا/اے سی خراب ہونے پر۔
پیپرز یا ٹیسٹ میں فیل ہونے یا کم نمبر لینے پر الزام ٹیچر کے نہ پڑھانے پر ڈال دیا جاتا ہے۔
ان کو اگر بخش دیں تو،
قصوروار کوئی نہ کوئی بن ہی جاتا ہے۔
میں عاصم کو عبادت کی حد تک چاہنے لگ پڑی تھی۔
عبادت… سمجھتے ہو کس کی کی جاتی ہے؟
لیکن خیر۔۔۔
مجھے کافی دفعہ محسوس ہوا جیسے کچھ بُرا ہو رہا ہے، یا ہونے والا ہے۔
لوگ مجھ سے دور جا رہے تھے۔
اور میں خود بھی لوگوں سے دور جا رہی تھی۔
رابعہ نے بھی کئی مرتبہ مجھے کہا:
"بس کر دو، بہت ہو چکا…
زیادہ سنجیدہ نہ لو اس رشتے کو۔"
ایک دن ہم بیٹھے تھے،
پھر اُس نے اسی موضوع پر بات کی۔
میں نے کہا:
"تمہیں بھی سعدیہ کی طرح جلن ہو رہی ہے میری خوشیوں سے؟"
تو اُس نے کہا:
"عاصم کے بارے میں مجھے کچھ پتا چلا ہے۔
وہ کوئی اچھا لڑکا نہیں ہے۔
ذرا خیال سے…
اور اگر یقین نہیں آتا،
تو اُس سے پوچھنا: حدیہ کون تھی؟
آ جائے گی تمہیں سمجھ۔"
میں نے کہا:
"اپنا منہ بند رکھو!"
تو رابعہ نے جواب دیا:
"مجھے کیا…
میری طرف سے چاہے جہنم میں جائو!"
میں نے گھر جا کر عاصم سے بات کی کہ رابعہ نے ایسا کہا ہے،
تو وہ کہنے لگا:
"وہ جلتی ہے تم سے۔"
اور میں نے… مان لیا۔
بہکنا کسے کہتے ہیں،
آپ مجھ سے اُس وقت پوچھتے،
تو بتاتی آپ کو…
"اُس کافر پر ایمان لے آئی تھی۔۔۔"
ایمان سمجھتے ہو؟
پکّا والا ایمان!
جس پر ،آجائے
پھر اُس پر بھروسا کرتے ہیں،
اُس کی سب باتیں مانتے ہیں۔
اور اگر نہ مانیں،
اور بھروسا نہ کریں…
تو پھر ایمان کس بات کا ہوا؟
وہ ہر پل میرا انتظار کرتا۔
اور جب کبھی میرا میسج وہ دیر سے دیکھتا،
تو مجھے ہول اٹھتے۔
اور جب کبھی وہ کہیں جاتا،
تو میں اُس کا انتظار کرتی۔
اور میں بھی۔۔۔
وہ میری باتیں سنتا رہتا،
اور میں اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے پل اُس کے ساتھ شیئر کرتی رہتی۔
یہ سب اتنا اچھا لگ رہا تھا،
جیسے یہی سب کچھ "نارمل" ہو۔
کالج میں اب بہت ساری لڑکیوں کو میرے اور عاصم کے بارے میں پتا چل چکا تھا،
کیونکہ سعدیہ سے لڑائی اس قدر ہوئی تھی
کہ اُس کی بات پورے کالج میں پھیل گئی تھی۔
ایک دن بریک کے وقت ہورِیہ،
جو ہماری کلاس فیلو تھی،
اُس نے کہا:
"آج تم اپنے بارے میں بتاؤ!
تمہارا کیا سین ہے؟
اپنے رانجھے کے بارے میں بتاؤ!"
بس اُس کے کہنے کی دیر تھی،
سب لڑکیاں بول پڑیں:
"بتاؤ، بتاؤ، بتاؤ!"
اچھا اچھا، بتاتی ہوں:
(سدرہ پوری کلاس کو عاصم کے بارے میں بتاتی ہے۔)
یقین کرو یا نہ کرو، کالج کی کینٹین والے انکل پہلے کی بچی ہوئی بریانی بیچتے ہیں...
مگر یار! کیا ذائقہ ہے اُن کے ہاتھ کی بنی بریانی کا... اُف! بندہ انگلیاں ہی چَـاٹتا رہ جائے۔
200 روپے کی پلیٹ بریانی دیتے ہیں، جس میں ایک عدد لیگ پیس ہوتا ہے۔
مگر خریداروں کی ایسی لمبی لائن لگتی ہے جیسے
بوڑھی ماں بچپن میں جمعرات کے دن ٹافیاں بانٹا کرتی تھی، تو بچوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔
وہ کہتی، "لائن بنا کے آؤ گے تو دو ٹافیاں ملیں گی، ورنہ کچھ نہیں ملے گا!"
یا، پھر ہم اسے آسان انداز میں یوں سمجھتے ہیں ..."
جیسے داتا کے دربار پر کھلی لنگر کی دیگ پر بھیڑ لگتی ہے...
میں نے بریانی لی اور بینچ پر بیٹھ کر کھانے لگی —
فرحت ٹپک پڑی...
اوہ! میں بتانا بھول گئی —
فرحت میری اُن فرینڈز میں سے ہے جو جب آپ کے قریب ہو تو لگتا ہے بس آپ ہی کی ہے...
کبھی تو وہ کافی قریب آ جاتی ہے،
اور کبھی کافی دُور چلی جاتی ہے...
اور جب وہ کسی اور سے باتیں کر رہی ہوتی ہے،
تو آپ کو لگتا ہے جیسے وہ آپ کی نہیں رہی...
یار، ایسا فیل ہوتا ہے جیسے میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہو!
قسم سے وہی والی فیلنگ آتی ہے... "سوطن" والی...!
فرحت کا سلوک بھی بالکل ویسا ہی تھا...
ہم لڑکیوں کا بھی نا، رب ہی وارث ہے!
جب خدا ہمیں دیکھتا ہوگا،
تو سوچتا ہوگا...
"کیا چیز بنائی ہے!"
ہم کہاں تھے؟ ہاں، فرحت بولی:
"کیسی ہو فرینڈ؟ سنا ہے آج کل سعدیہ سے ناراضگی چل رہی ہے؟
جناب چھوڑ دو ناراضگی، سعدیہ اچھی لڑکی ہے...
اور ہاں، میں نے یہ بھی سنا کہ لڑائی ہمارے ہی کالج کے لڑکے عاصم کی وجہ سے چل رہی ہے!"
میں نے اُسے کمپیوٹر لیب میں ہی دیکھا تھا،
مگر سچ پوچھو تو جیسا سُنا ہے کہ تم کہتی ہو،
ویسا تو نہیں لگا مجھے...
ڈوائیڈر کی دوسری جانب سے گھور گھور کے تانیا کو دیکھ رہا تھا۔
"تانیا کون؟"
"تانیا وہی، جس کے گال پر بائیں طرف تل ہے...
وہی تانی، جو سونگ کمپیٹیشن میں ونر تھی!"
"اچھا اچھا، یاد آیا..."
میں تو آج تک یہ نہیں سمجھ پائی
کہ جب ٹی وی یا ناول کا ہیرو اپنی ہیروئن کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے،
تو ہم کیوں مان لیتی ہیں کہ ہمارا والا بھی ہمیں لے جائے گا؟
ہمیں ساری خوشیاں دے گا جن کا ہم نے خواب دیکھا ہے؟
ہمارے لیے زمانے سے لڑ جائے گا...؟
اگر لڑکی کو کسی غیر مرد سے اچھا لگنے اور سُننے کی عادت پڑ جائے —
تو سمجھ لو…
اس کی بربادی شروع ہو چکی ہے۔
جب لڑکی کو کوئی کہتا ہے نا کہ:
"تم دُنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت ہو…"
تو یاد رکھو —
وہ خوبصورت ہوتی ہے،
مگر سب سے خوبصورت نہیں۔
اور یہی بھول…
اُسے مرواتی ہے۔
جب لڑکی کسی غیر محرم لڑکے کو کہتی ہے
کہ "میں آپ کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں"...
تو شیطان اُسی وقت لڑکے کے کندھے پر تھپکی دیتا ہے اور کہتا ہے:
Well done, beta ji!
You got it... You're doing very well.
We had a great time. I really enjoyed spending time with you.
You're my favorite child.
اوپر اُٹھو... میں تمہیں گلے لگانا چاہتا ہوں۔
جب تم چھوٹے تھے — یہی کوئی دس سال کی عمر تھی،
ایک شام تمہیں نیند نہیں آ رہی تھی۔
تمہارے پاپا نے پوچھا:
"میرے بچے کو نیند کیوں نہیں آ رہی؟"
تب میں نے تمہارے ننھے سے دماغ میں ایک خیال ڈالا تھا:
"شاید آج تم نے کسی کے دروازے کی بیل بجا کے بھاگنا چھوڑ دیا ہے، اس لیے نیند نہیں آ رہی۔"
تو تم فوراً بولے:
"میں نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی۔"
پھر تم اُٹھے، وضو کیا، نماز پڑھی،
اور نماز پڑھتے پڑھتے ہی سجدے میں سو گئے۔
Shut up, Farhat…
ابھی اور ہے، ذرا سنو تو...
اور جس کو آپ نے کہا ہو نا کہ
"میں آپ کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں"،
وہ پھر آپ سے سب کچھ کروا بھی لیتا ہے
...
ریئلٹی سمجھو یار...!
ایک فینٹیسی میں جی رہی ہو تم، سدرہ!
"کیسی فینٹیسی؟"
"اچھا یار، سُنو، نور کو تو تم جانتی ہو نا؟"
"کون سی نور؟"
"نور رفاقت، حاجی محلے کی گلی نمبر 7 کے نکڑ پر جن کا گھر ہے۔ وہی نور، جس نے میٹرک تین سال میں کیا..."
"ہاں ہاں یاد آ گئی... ضمنی والی؟"
"ہاں، وہی تو..."
چار سال کا ریلیشن تھا، چھ مہینے بعد طلاق ہو گئی۔
پوچھا تو بولی:
"لگ رہا تھا ہم ایک دوسرے کو جان گئے ہیں،
مگر جب ملے تو پتا چلا کہ ہم ساتھ نہیں چل سکتے...
ہم نے تو ایک دوسرے کو جانا ہی نہیں تھا،
ہم نے تو اس اسکرین پر بنے ایک ورچوئل کردار سے محبت کی تھی...
جس کے ایک ٹک کے بعد دوسرا ٹک نہ لگنے سے جان جایا کرتی تھی!"
"ہم دونوں وہی تھے...
مگر شادی کے دو ماہ بعد سے ہم الگ الگ کمروں میں سو رہے تھے۔
اسکرین پر جب تک تھے،
بلاک کرتے تو دوسرا منا لیتا،
اور بات بن جاتی۔
مگر اصل میں اگر ہم بلاک ہو جائیں...
تو پھر الگ ہونا پکا ہوتا ہے۔"
یار، کچھ سمجھو...!
"مجھے کچھ نہیں سمجھانا، بس مجھے اتنا پتہ ہے کہ "میرے والا ایسا نہیں ہے"...
وہ میرا بہت خیال رکھتا ہے،
اور میں اس سے کچھ نہیں چھپاتی...
یہ بات بھی بتاؤں گی اُسے۔"
اچھا تمہیں میں ایک بات سناتی ہوں۔
میں نے کل آم کھایا،
دیکھنے میں پیلا اور جب کاٹا تو کھٹا نکلا......
تم پاگل واگل ہو سدرہ، انگور کھٹے ہوتے ہیں...
اکثر اوقات آم میٹھے ہوتے ہیں...
میں بھی تو فرحت یہی کہہ رہی ہوں، میرے والا ایسا نہیں ہے...
"تم سمجھو تو...
ذرا حقیقت کو سمجھو..."
"تمہیں فرحت ایک بات بتاتی ہوں،
اور اس بات پہ بات ختم!
منظور ہے؟"
"ہاں، بولو..."
"محبت نہ کسی رسم و رواج کو دیکھتی ہے،
نہ مذہب، نہ قانون،
نہ یہ سوچتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے...
محبت ان سب سے بَری" ہوتی ہے۔"
"اچھا، تم نے روک لگا رکھی ہے،
مگر میں بھی ایک بات کہوں گی...
یہ جو تم سدرہ باتیں کر رہی ہو نا،
یہ سب تم بول تو رہی ہو،
مگر الفاظ اور زبان کسی اور کی ہے۔
تم نے 'خون' کا ذائقہ چکھ لیا ہے،
اب تم چاہتی ہو کہ - سب اپنوں کا خون کر کے،
اسی میں غوطہ لگا لو..."
"خون؟ کیسا خون؟"
"خون ایسا کہ جب تم اپنے اپنوں کی تربیت، مان، اور اعتبار کا قتل کرو گی،
تو
جانِ من... آبِ زمزم نہیں،
خون نکلے گا!"
"جانِ من،
جب لڑکی حیاء کا پاس نہ رکھے
اور کسی غیر مرد سے بات کرے،
تو وہ حیاء کا قتل ہوتا ہے...
اور وہ ذائقہ تمہیں بہت اچھا لگا ہے!"
"وہ غیر تھوڑی ہے..."
"وہ اپنا بھی تھوڑی ہے...
نکاح میں نہیں ہو تم اُس کے!"
"تمہیں پتا ہے، مرد اور عورت میں کیا فرق ہے؟"
"مرد جنت سے نکالا گیا تھا...
اور عورت، مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی تھی۔"
"اور یہ بھی تمہیں پتا ہوگا کہ کیوں نکالا گیا تھا؟"
"جس چیز سے رب نے اُسے روکا تھا، وہی کام مرد نے کیا...
اور نکالا گیا..."
"کچھ سیکھا تم نے اس سے؟
مرد کو اگر کہیں کہ یہ کام نہ کرو، تو وہ وہی کرے گا جس سے روکا گیا ہو۔
اُسے کہو گی 'مجھ سے بےوفائی نہ کرنا'،
تو وہ بےوفائی کرکے تم سے کہے گا،
'میں نے رب کی نہیں مانی، تم کون ہوتی ہو؟'"
"دیکھو تم، سدرا...
میں یہ نہیں کہتی کہ تم اُسے بےوفا کہو یا اُس پہ شک کرو،
میں بس اتنا کہتی ہوں... اُس سے نکاح کر لو!"
"نکاح سے یاد آیا...
تمہیں پتا ہے لوگ شادی کیوں کرتے ہیں؟
اور جب کرتے ہیں تو سب کو اپنی شادی میں کیوں بلاتے ہیں؟"
"کیونکہ وہ بتاتے ہیں لوگوں کو کہ:
'ہم ایک دوسرے کے ہو چکے ہیں —
قانونی اور رسمی طور پر۔
لہٰذا ہم کمٹڈ (committed) ہیں...
"کوئی غیر محرم ہم سے امید نہ رکھے، اور ہم بھی کسی سے کوئی امید نہیں رکھتے۔"
اور اب، سب کو الوداع (Goodbye to all of you)۔'"
"کہنے لگی: ویسے ایک بات ماننی پڑے گی —
غیر محرم کی کی ہوئی تعریف میں
محرم کی ہزار تعریفوں سے زیادہ طاقت ہوتی ہے!"**
"جب غیر محرم کہتا ہے کہ
‘کبھی خود کو آئینے میں دیکھا ہے؟ آپ بہت خوبصورت ہیں’...
تو پھر آئینے پر آتے جاتے نظر ضرور پڑتی ہے،
اور لڑکی موج میں آئینے سے باتیں کرتی ہے،
کہتی ہے:
‘تم نے مجھ سا حسین کبھی دیکھا ہے؟’
آئینہ ذرا سی مسکراہٹ دیتا ہے
اور آگے سے کہتا ہے:
‘آپ جیسا، میڈم،
ریت سے کانچ کا آئینہ بن کے بازار میں بکھنے سے لے کر
گھر میں آپ کے پہنچنے تک...
آپ سا حسین کبھی نہیں دیکھا...’"
میں نے اُس کی نظریں دیکھی ہیں، اور اُس سے پہلے دنیا دیکھی ہے۔
مرد کی نظریں اُس کی پہلی پہچان ہوتی ہیں،
اور اُس کی نظریں چیخ چیخ کر کہتی ہیں کہ "ہم پر ایمان نہ لانا، مارے جاؤ گی!"
جانِ من، نکاح کر لو اُس سے!
یا کہہ دو، "کر لے نکاح مجھ سے!"
دیکھنا کیسے چُپ سی لگ جائے گی —
اور اگر بولا بھی، تو جھوٹ بولے گا!
کہے گا: "ابھی ہم چھوٹے ہیں،
اتنا بڑا فیصلہ ہم اچانک سے نہیں لے سکتے۔
میں تم سے نکاح کروں گا،
مگر مجھے کچھ وقت دو...
یقین کرو مجھ پر!"
اور پتہ ہے مزے کی بات؟
تم یقین بھی کر لو گی...!
بھرے بازار میں تمہیں ننگا کرے گا،
اور قسمیں کھائے گا، وعدے کرے گا —
مگر نکاح نہیں کرے گا۔
"اور لکھوا لو سالا، قسمیں کھائے گا مگر نکاح نہیں کرے گا..."
اب کہو گی "سالہ کیسے؟"
سالہ ایسے... کہ گالی دے رہی ہوں اُسے!
دیکھو تو، میں نے بھی تو تمہارے کالے ڈریس کی تعریف کی تھی،
مگر جیسے ہی عاصم نے تعریف کی —
پورا دن تم کھلی کھلی، خوش خوش نظر آئیں...
وہ شادی کرے گا مجھ سے۔۔۔
اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھ سے شادی کرے گا۔۔۔
اپنے گھر لے جائے گا مجھے جلدی ہی۔۔۔
دیکھ لینا تم۔۔۔
اور ایک بات میری دھیان سے سنو، اور ذہن میں بٹھا لو تم، آئندہ اگر تم نے عاصم سے متعلق کوئی ایسی ویسی بات کی منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔
یار سنو، میں تمہارے عاصم کو کچھ نہیں کہہ رہی، میں تمہیں جسٹ رئیلٹی چیک دے رہی ہوں۔
نکاح کا وعدہ کیا ہے اس نے۔۔۔ کرے گا نہیں
کمینی شاید کچھ نشہ کر کے آتی تھی
یا پھر کوئی ذہنی بیماری تھی اُسے...
یار، ایک نارمل بندہ ایسی باتیں نہیں کرتا —
کہ "آئینہ بات کرتا ہے"، "خون" اور پتہ نہیں کیا کیا...
خیر.
ماما نے بہت سختی کر دی۔
تین دن عاصم سے بات نہ ہو پائی۔
اور جب بات ہوئی تو وہ کافی ناراض تھا۔
کہنے لگا:
"تم مجھے یہ بتاؤ، تمہیں کتنی محبت ہے مجھ سے؟"
… "مگر چھوڑو،
نہیں ہوگی تمہیں محبت،
ورنہ تم کوئی موقع پا کر مجھ سے رابطہ کرتیں۔"
"خدا کی قسم، موقع نہیں ملا مجھے،
بہت کوشش کی میں نے…
مگر کامیاب نہ ہو سکی۔"
کہنے لگا:
"چھوڑو، تمہیں محبت ہی نہیں ہے مجھ سے۔"
"اچھا بتاؤ،
کیا تم اپنی محبت کو ثابت کر سکتی ہو؟"
میں نے کہا:
"ہاں۔"
"تم اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لیے کیا کر سکتی ہو؟"
میں نے کہا:
"میں آپ کے لیے پوری دنیا سے لڑ سکتی ہوں…
سب کو چھوڑ سکتی ہوں آپ کے لیے۔
آپ بتائیں، اور کیا ہوتی ہے محبت؟
باقی جو آپ کہیں۔"
کہنے لگا:
"کپڑے اُتار سکتی ہو؟"
"یہ کیا بکواس ہے؟
آپ یہ کیسی بات کر رہے ہیں؟
اور یہ کون سا طریقہ ہوا محبت ثابت کرنے کا؟"
کہنے لگا:
"مجھے تو یہی طریقہ آتا ہے۔
تم بتاؤ؟"
میں نے کہا:
"نہیں ہو سکتی۔"
کہنے لگا:
"چلو پھر ٹھیک ہے،
بائے!"
چند ہی لمحوں میں میرا شیشے کا مکان ٹوٹ چکا تھا۔
میری آنکھوں سے آنسو زور و قطار بہہ رہے تھے۔
میں نے اُسے بلاک کر دیا،
اور رات بھر روتی رہی۔
دن بھر ایک بےچینی چھائی رہتی۔
رات کو نیند نہیں آتی تھی۔
میں مسلسل گولیاں لے کر سونے لگی تھی۔
میں اکیلی تھی۔
میرے پاس میرا اپنا کوئی نہیں تھا —
جو میرا ہاتھ تھام لیتا،
جو مجھے ایک تھپڑ مار کر ہوش دلاتا،
یا مجھے گلے لگا کر کہتا:
"تم بہت غلطی کر چکی ہو،
اب بس کر دو۔"
اس سب میں قصور میرا ہی تھا…
میں نے اپنے، اپنوں سے خود کو دور کر لیا تھا۔
آخرکار،
میری تنہائی مجھے کھا رہی تھی۔
میرا خود پر زور نہ چلا۔
ہفتے کی رات،
میں نے دودھ میں تین گولیاں ملائیں،
اور ماما بابا کو دودھ پلا دیا۔
پھر عاصم کو ان بلاک کیا،
اور میسج کیا۔
تھوڑی دیر بعد جواب آیا:
"کیا تم اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لیے تیار ہو؟"
میں نے کہا:
"خدارا، اس بات کو چھوڑ کر کچھ اور کہہ لیں…
آپ چاہیں تو میں آپ کے لیے نبض کاٹ لوں،
یا کچھ اور کہہ لیں…"
عاصم: "میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں...
ویسے بھی تمہیں شرم کس بات کی ہے؟ شادی تم ہی سے ہونی ہے۔
تم میری ہو، تمہارا جسم بھی میرا ہے — آج بھی، کل بھی۔
کال پک کرو!"
میں نے کمرہ لاک کیا،
اور کال اٹھا لی۔
وہ مجھے جو کچھ بتاتا گیا کہ کیسے کرنا ہے —
میں ویسے ہی کرتی گئی۔
ہماری کال آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔
اس کے بعد کال ختم ہو گئی۔
مجھے پتا تھا کہ میں نے کتنا بڑا گناہ کیا ہے،
مگر دل کو یہ تسلی تھی کہ:
“وہ میرا ہونے والا شوہر ہے…”
سب کچھ غلط ہوتے ہوئے بھی
مجھے سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا۔
ہم روز باتیں کرتے رہے —
اب فرق صرف اتنا تھا کہ
اس کی ہر بات،
اب میرے جسم کے گرد گھومتی تھی۔
دو ہفتے گزر چکے تھے۔
ان دو ہفتوں میں وہ مجھے بار بار کہہ چکا تھا:
"مل لیتے ہیں۔"
پھر آخرکار،
آج اُس نے مجھے ہماری اسی کال کی ویڈیو ریکارڈنگ بھیج دی۔
اور ساتھ لکھا:
"چلے گی میرے ساتھ —
ورنہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک کر دوں گا۔"
میں نے سب کو چھوڑ دیا تمہاری خاطر…
تم ایسا نہیں کر سکتے۔
اور تم ایسے نہیں ہو سکتے…!
دادی کے مرنے کے بعد پھوپھو کے بیٹے محمد علی شیر کا رشتہ آیا، سیٹل تھا، کینیڈا میں، 6 لاکھ مہینہ کما لیتا تھا...
رشتہ آیا، امی نے مجھ سے بات کی، میں نے کہا امی ابھی نہیں، ابھی مجھے کچھ بننا ہے...
مگر انہوں نے زبردستی منگنی کا دن رکھا اور نکاح پڑھوا دیا...
محمد علی شیر ایک اچھا لڑکا تھا، میں نے اُس سے رابطہ کیا اور ساری بات بتائی، اُس نے پینک نہیں کیا، اور میری بات سنی اور مان لی...
میں نے کہا طلاق دے دو مجھے،
بولا: طلاق کہاں تم نے؟
ہاں، میں نے طلاق کہا...
کہنے لگا: سدرہ سوچ لو پھر سے...
میں نے کہا: سوچ لیا، تو کہنے لگا: مجھے وقت دو...
پھر جب بات ہوئی تو کہنے لگا: تم پہ بات نہ آئے،
میں ایک کام کرتا ہوں، خود پہ لے لیتا ہوں ساری بات...
اور اُس نے اپنے اوپر ساری بات لے لی...
اور کہا کہ: میں نے پاکستان اگلے دس سال نہیں آنا، اور مجھے کوئی اور پسند ہے، میں سدرہ کو چھوڑنا چاہتا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ سدرہ میرے بندھن میں بندھی رہے...
سارے خاندان میں بات پھیل گئی...
محمد علی کو سب نے بہت برا بھلا کہا مگر وہ خاموش رہا آگے سے...
اُن دنوں پھوپھو آئی تھیں ہمارے گھر، اور بابا کے پاس بیٹھ کے رونے لگ پڑیں کہ ہمارا بیٹا ہمارا نہیں رہا،
وہ کسی فرنگی گوری کو دل دے بیٹھا ہے،
بھائی مجھے معاف کر دیں،
میں آپ کے پاؤں پڑتی ہوں...
اور پھر پھوپھو خود سے اُٹھیں اور اپنا سر بابا کے قدموں میں رکھ دیا،
بابا نے اُسی وقت اُنہیں اٹھایا اور گلے لگا لیا،
اور اُن کے بہتے ہوئے آنسو صاف کیے اور کہا کہ:
"بہن! سدرہ ہمیشہ تمہاری ہی رہے گی...
ہم تمہارے ہی ہیں..."
عاصم! میں نے تمہارے خاطر رشتہ توڑ دیا،
امی بہت غصہ ہوئیں،
بابا کو بھی کہاں اچھا لگا تھا، وہ بھی چپ رہے ایک ہفتہ،
پھر کہا: بیٹا تمہاری خوشی سے عزیز ہمیں کچھ بھی نہیں...
تم پڑھو جتنا پڑھنا ہے اور جو تم کہو گی، جب تم کہو گی، تب ہی تمہاری شادی ہوگی...
نکاح توڑ دیا تمہاری خاطر...
تھوڑا سا تو خیال کرو... عاصم...
میں نے کچھ خیال نہیں کیا…
میں نے سب وہ کیا جو تم نے کہا۔
جان مانگو گے، دے دوں گی…
مگر یہ ظلم نہ کرو تم…!
میں ایسا ہی ہوں۔
یقین نہیں؟
تو صبح کا انتظار کرو…
خود مان جاؤ گی کہ میں کیسا ہوں…!
میرا حال کچھ یوں تھا،
جیسے قیامت کا منظر ہو —
سورج سوا نیزے پہ ہو ،
اور میں سردی سے کانپ رہی ہوں۔
ہر لمحہ لگتا تھا
جیسے میری جان جا رہی ہو۔
میں نہیں مل پاؤں گی عاصم۔
عاصم، پلیز...
کیا میں پہلی ہوں؟
ہنس کے بولا: "کمینہ، گیارہویں ہوں۔"
تم لڑکیاں بھی کمال کرتی ہو۔
تم ہوتی ہی ایسی ہو، جنہیں سنہرے خواب اور دو میٹھی باتیں موہ لیتی ہیں اور تم لوگ اپنا سب کچھ گنوا دیتی ہو۔
تم سے اچھی تو ہادیہ تھی، ملنے کو آئی تو مگر بیچاری پکڑی گئی۔
تمہیں کیا مجھ سے محبت تھی بھی کیا؟
محبت؟
تم جیسیوں سے تو مجھے روز صبح محبت ہوتی ہے، تب تک جب تک کوئی اگلی نظر نہ آ جائے۔
میری بددعا ہے تمہیں — کُتّے کی موت مرو گے۔
ایسی بددعائیں میں روز سنتا ہوں،
مگر مرا کبھی نہیں۔
تم جیسیوں کی تو بددعا بھی نہیں لگتی۔
باقی باتیں تم چھوڑو،
جو کہا ہے اُس کا بتاؤ —
وائرل کر دوں کیا؟
رحم کر دو مجھ پر عاصم...
میرا دماغ پہلے ہی بہت خراب ہے، اور خراب نہ کرو۔
سیدھا بولو — ملو گی کہ نہیں؟
بولو...
میں نے کہا: بولو، میرا دماغ خراب نہ کرو۔
اور رہی بات رحم کی،
خُدا سے مانگو رحم — میں خُدا نہیں ہوں۔
اور تم جیسیوں پر رحم نہیں کرتا۔
چاہے تم نبض کاٹ لو یا جہنم میں جاؤ — مجھے فرق نہیں پڑتا۔
معاف کر دو مجھے۔
تم بتاؤ… ہاں یا نہ۔
—New
میں غلط تھی، مما...
معاملہ مرد اور عورت کی بے وفائی کا نہیں…
یہ تو بات نصیب کی ہے۔
کسی کی تقدیر میں،
خدا کی لکھی کہانی میں کیا ہے…!
اور کچھ لوگ وفادار بھی تو ہوتے ہیں نا…
کچھ نہیں مانگتے،
کچھ نہیں کہتے،
اُن کے محرم کی خوشی ہی اُن کی خوشی ہوتی ہے۔
مگر میرے معاملے میں ایسا نہیں ہو سکا، مما…
تو کوئی نہ، خیر ہے…
رب اُس بےایمان کو بیٹی دے…
اس کے بعد… اماں، میں نے فون بند کر دیا ہے۔
امّی، ابو… اب میں کسی کو منہ نہیں دکھا سکتی۔
اور میں یہاں نہیں رہنا چاہتی۔
بس آپ مجھے معاف کر دینا۔
میں سدرہ کمینی
تمام شد۔
(اگلی صبح یہ خط میز پر پڑا ملا اور سدرہ نیند کی گولیوں کی زیادہ مقدار لینے کے باعث وفات پا چکی تھی۔)
مصنف کا نوٹ:
ہم نے کتنی سِدرا جیسی بہنیں، بیٹیاں کھو دیں…
سِدرا کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی تنہائی سے مجبور ہو کر خوشیوں کا لالچ کر بیٹھی۔
سِدرا کا قاتل صرف عاصم ہی نہیں…
بلکہ ہم سب ہیں — اُس کا خاندان، اُس کے دوست، اور اُس کا ماحول۔
جب سِدرا کی دوستوں سے لڑائی ہوئی اور اُس نے پہلی بار عاصم کو بلاک کیا، تب اُس نے خود کو جذباتی اور جسمانی طور پر اکیلا پایا۔
اُس لمحے اُسے سب سے زیادہ سہارا چاہیے تھا…
اور جب اُسے کوئی سہارا نہ ملا، اُس نے تھک ہار کر عاصم کا سہارا چُن لیا۔
تب اُسے کوئی چاہیے تھا جو اُسے روکتا، سینے سے لگاتا، اُسے بتاتا کہ وہ تنہا نہیں۔
رابعہ اور سادیہ بھی اُس کی بڑی قاتل ہیں…
جنہوں نے پریشانی کے لمحوں میں اپنی دوست کو اُس کے حال پر چھوڑ دیا۔
نشے سے بھی خطرناک ہوتی ہے...
نشے کی عادت۔
نشہ چھوٹ جاتا ہے،
مگر نشے کی عادت نہیں چھوٹتی۔
انسان اسی دائرے — اسی "لوپ" — میں پھنسا رہتا ہے۔
اگر سدرا زندہ بھی رہتی،
تو وہ چاہ کر بھی اُس لوپ سے نکل نہ پاتی...
سدرا کو اگر غور سے دیکھا جائے،
تو وہ کبھی کسی سے مدد نہیں مانگتی تھی۔
اور جب کوئی نیا "عاصم"
اپنا کندھا اُس کے آنسو بہانے کے لیے دیتا،
تو سدرا کا ایمان پہلے سے بھی زیادہ زور سے ٹوٹتا...
فرحت نے مدد کرنا چاہی،
مگر جب اُس نے کچھ کہا،
تو سدرا نے بالکل نہیں سنا... بلکہ سن کر ان سنا کر دیا۔
سدرا کی سہیلیاں بھی قصوروار تھیں،
مگر سدرا خود اپنی سب سے بڑی دشمن تھی —
جو عاصم جیسے آوارہ کی باتوں میں آ گئی...
وہ جانتی تھی کون غلط ہے،
مگر وہ شاید اتنی ٹوٹ چکی تھی
کہ سچائی سننے کی ہمت ہی نہ بچی تھی۔
رابعہ جہنم کی بددعا دے کر دور ہو گئی…
جبکہ وہ آسانی سے اُسے اس جال سے بچا سکتی تھی۔
ہمیں چاہیے کہ جب بھی اپنے اردگرد کسی سِدرا کو دیکھیں — اُسے سمجھیں،
اُسے سُنیں،
اور اُسے اس جال کے بارے میں آگاہ کریں جس میں وہ پھنستی جا رہی ہو۔
ہم عاصم کو دیکھ کر پورے مرد طبقے سے نفرت نہیں کر سکتے…
لیکن ہم کسی عاصم کے ہاتھوں کسی سِدرا کو برباد بھی نہیں ہونے دیں گے۔
آؤ —
یہ رِسم، ختم کرتے ہیں…
اور سِدرا کے لہو سے ایک نیا آغاز کرتے ہیں۔
اب نہ کوئی عاصم پیدا ہونے پائے گا،
نہ کوئی سِدرا برباد ہونے دی جائے گی۔
اگر کوئی سِدرا پھر بھی بنے —
تو ہم اُسے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
اور یاد رکھیں،گے
سِدرا سے اگر کوئی عاصم محبت کا ثبوت مانگے،
تو پیچھے ہٹ جائیں…
کیونکہ وہ ہمیں اپنے ماں باپ سے نہیں ملوائے گا ،
وہ تو ہمیں ملنے کے لیے کسی ہوٹل میں بلائے گا۔
اگر کوئی عاصم محبت کا ثبوت مانگے
تو ہم ایسی محبت پر لعنت بھیجیں گے
اور ہزار قدم دور بھاگیں گے ایسی محبت سے۔
اصل میں
محبت ایک مقدس اور پاک رشتہ ہے،
وہ آپ کے کپڑے نہیں اتارتی
بلکہ آپ پر پردہ ڈالتی ہے۔
اور پاک محبت انسان کو باغی نہیں،
بلکہ مضبوط بناتی ہے۔
عاصم کو سزا کیوں نہیں ملی؟
عاصم کو سزا اس لیے نہیں ملی کیونکہ وہ آج بھی ہمارے بیچ بھیس بدل کر بیٹھا ہے۔
وہ ہمارا بھائی، بیٹا، اور دوست بھی ہو سکتا ہے
ہمیں گھر بیٹھے چور کو پہچاننا ہوگا،
ہمیں ظالم کے چہرے سے نقاب اتارنا ہوگا۔
سِدرا کا مرنا ضروری تھا کیا؟
سِدرا کا مرنا اس لیے ضروری تھا کہ اس میں اب لڑنے کی ہمت نہیں بچی تھی۔
اس نے لڑنے سے بہتر اپنی موت کو گلے لگانا سمجھا۔
جب محبت کی جاتی ہے، تو کچھ مانگا نہیں جاتا...
یہ نہیں کہا جاتا کہ "کپڑے اتارے جائیں" یا "لوئیلٹی ٹیسٹ دیا جائے" —
محبت کی ہے، نا تو کیا ہم کسی امتحان میں بیٹھے ہیں؟
اب رب ہی کو دیکھ لو...
رب کو کیا چاہیے؟ کچھ بھی نہیں۔
رب ہم سے وہی مانگتا ہے جو ایک باپ مانگتا ہے:
"میں تمہاری سب مانتا ہوں،
تم بھی کبھی میری مان لیا کرو۔"
رب نے تو کتنی آسانی کر دی —
ایک زندگی کا ضابطہ (Code of Life) دے دیا۔
مگر...
کس کو پروا ہے؟
کس نے مانا؟
کون رکا؟
باپ بھی رب جیسا ہے —
اپنا سب کچھ معاف کر دیتا ہے،
مگر جب ایک بیٹا،
دوسرے بیٹے کو قتل کر دے،
تو باپ گواہی دیتا ہے:
"یہ ہے میرے بیٹے کا قاتل!"
اُس وقت وہ یہ نہیں سوچتا:
"یہ بھی تو میرا بیٹا ہے۔"
سدرا کے ساتھ انصاف ضرور ہوگا،
رب کرے گا...
مگر اُس کا ایسے مرنا... اُسے مروا دے گا۔
کئی "سدرا" ایسی ہیں — جو صرف نام کی جیتی ہیں۔
سانسیں لیتی ہیں...
مگر ہر سانس کے ساتھ مرتی ہیں۔
ان کا انصاف کرے گا خدا۔
اور عاصم کو ضرور ملے گی سزا۔
مگر... اس سب سے یہ جواز پیدا نہیں ہوتا
کہ جو کچھ سدرا نے کیا — وہ درست تھا۔
درحقیقت... جو کچھ ہوا، سب ہی غلط تھا۔
جب پاک محبت کی جاتی ہے تو محبت کی آفر میں جھوٹ نہیں بلکہ
ایمانداری بونس میں ملتی ہے اور ایماندار بندہ جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔
سچ بولتا ہے اور سچ سے مراد کسی کے راز کو دنیا کے سامنے رکھنا نہیں، بلکہ راز رکھنا اور۔۔۔
معاملات کو ٹھیک رکھنا ہوتا ہے۔
محبت کرنا بُرا نہیں…
مگر شرط یہ ہے —
کہ کس سے…
اور کس رشتے سے محبت کی جا رہی ہے۔
سوچنے بیٹھا، اور خود سے سوال کیا —
رومانس کسے کہتے ہیں؟
تو کئی سوالوں اور کئی جوابوں نے گھیر لیا…
پھر خلاصہ نکالا، تو کچھ یوں نکلا:
رومانس، فزیکل ہونے کا نام نہیں ہے۔
رومانس احترام، تعریف، قدر، حوصلہ دینے،
ساتھ دینے، اور ساتھ دینے کے وعدے کا نام ہے۔
اور رومانس سے ہونے والی محبت کو
کامل بنانے کا نام ہے۔
جب ایک پارٹنر دوسرے سے پوچھے:
"تم نے کھانا کھایا؟"
اور دوسرا کہے: "نہیں کھایا..."
تو پہلا بولے:
"اگر آپ نہیں کھاؤ گے،
تو میں بھی نہیں کھاؤں گا…"
تو یہ بچپنا نہیں…
یہ شرطِ محبت ہے۔
کسی کے روٹھ جانے پر
دوسرے کا منانا —
اسی شرط کا حصہ ہے…
جہاں دوسرے کی غلطی جانتے ہوئے بھی،
خود معافی مانگ لی جاتی ہے۔
اور محبت میں تو
محرم پر یقین اتنا ہونا چاہیے،
کہ اگر آپ کو معلوم ہو دن ہے —
اور وہ کہے رات ہے —
تو اُس پر کامل ایمان لے آئیں…
اور ایمان میں مان لیا جاتا ہے کہ واقعی رات ہے۔
اور یاد رکھو:
محرم نکاح سے بنتا ہے…
نکاح کے بغیر محرم نہیں بن سکتا۔
:سِدرا کی زبانی ایک خیال
بہکنا کسے کہتے ہیں، آپ مجھ سے اُس وقت پوچھتے تو بتاتی آپ کو..."
"اُس کافر پہ ایمان لے آئی تھی!"
ایمان سمجھتے ہو؟
پکے والا ایمان۔
جس پہ لے آئیں، پھر اُس پہ بھروسا کرتے ہیں۔
اُس کی سب مانتے ہیں۔
اگر نہ مانیں، اور بھروسا نہ کریں،
تو ایمان کس بات کا ہوا؟
وقت آنے پر اُس پر تن من وار دیا...
لیکن معلوم یہ پایا کہ اُسے تو بس تن سے مطلب تھا۔
تن لیا، اور چلتا بنا۔
کسی پہ ایمان لے آنے کا سب سے بڑا مزہ بتاؤں؟
جتنی دیر بندہ ایمان کی حالت میں ہوتا ہے،
وہ مدہوش رہتا ہے۔
اُسے کسی قسم کی پروا نہیں ہوتی۔
اور جب ٹوٹتا ہے نا...
تو سالا ایمان تو جاتا ہی جاتا ہے،
ساتھ دل بھی جاتا رہتا ہے۔
پھر وہ دل کسی پہ ایمان لانے کے قابل نہیں رہتا۔
زندگی بھر وہ خود کو کوستا رہتا ہے۔
بچپن میں، اصلی نوٹوں سے نقلی نوٹ خریدا کرتی تھی۔
جوان ہوئی...
تو —
ماں باپ کی عزت کے بدلے
—
خوشیاں خریدنا چاہیں۔
پتا ہے؟
لڑکی کی عزت پہلی بار کب جاتی ہے؟
جب اُس کے دل میں پہلا ارمان جنم لیتا ہے —
کسی "غیر" سے تعریف سننے کا۔
اور اُس کے بعد تب جاتی ہے جب وہ کسی غیر کو اپنی تصویر شیئر کرتی ہے۔
پہلے پہل تو اُسے پتا چلتا ہے کہ عزت جا رہی ہے،
پھر وہ عادی ہو جاتی ہے۔
اُس کا ضمیر اُسے روکنا چھوڑ دیتا ہے،
کہتا ہے:
"تمہیں میری نہیں پرواہ تو مجھے کیوں ہوگی؟"
مگر پھر بھی وہ بتاتا رہتا ہے کہ،
"کچھ تو ہے غلط۔"
جب ماں باپ کی عزت بیچی،
تو پتا چلا...
کہ ماں باپ کی عزت بیچ کے خوشی نہیں ملا کرتی...
ساری بات کو اس دعا کے ساتھ ختم کرتے ہیں:
"صداآباد رہیں بہن بیٹیاں،
ہمیشہ خوش رہیں،
اور ایک مکمل دنیا بنے جس میں پاک محبت ہو،
لوگ مل جل کر رہیں،
کسی کو کسی سے نفرت نہ ہو۔"
عنوان: اللہ جی، سوری... بھول چوک معاف
---
محسن، نماز... اور وہ بھی تم؟
مت پوچھو۔
بتا کیا ہوا ہے؟
کچھ یاد نہیں، ڈر گیا ہوں۔
کس سے؟
خدا سے اور...
اور کس سے؟
اور خود سے...
کیوں؟ ڈرا کیوں ہے؟
اس نے ڈرا دیا ہے...
بتا نا کس نے؟
تھوڑی بات کر کے خاموش نہ ہو جایا کر...!
یار، جب آپ کو کوئی چاہے اور آپ نہ چاہیں اُسے... اور چاہنے والے کے دل میں جگہ دینے والے نے تمہیں بنایا ہو... اور تم پر غفلت طاری ہو تو؟
کیا باتیں کیے جا رہا ہے تُو؟ بندہ بن، بتا ہوا کیا ہے؟
محبت ہو گئی ہے، پھر سے وہ جذبات دل میں جنم لے رہے ہیں جو برسوں پہلے کسی بے وفا صنم کے لیے اُبھرے تھے۔
مگر بے وفا بھی تو نہیں کہہ سکتا اُسے... نہ تو اُس نے کوئی معاہدہ کیا تھا کہ "مجھ کو تم سے اور تم کو مجھ سے محبت ہے" تو اب اس بندھن سے نہ تم چھوٹ سکتے ہو نہ میں۔
لیکن خیر...
کسی نے آج مجھے رب سے ڈرایا... اور قسم پیدا کرنے والے کی ، ڈر گیا میں...
دھڑکن نہیں تھم رہی۔
بےچینی ہے اور سکون بھی ہے۔
اور یہ نہیں پتا بےچینی کیوں ہے اور سکون کیوں ہے...
اچھا بتاؤ تم، کیا کہا کہنے والے نے؟
کہنے والے نے کہا: کسی غیر سے بات مت کرنا، ورنہ...
میں نے پوچھا: ورنہ؟
کہا: رب دیکھ رہا ہے۔
سب دیکھی جائے گی۔
تب سے کپکپاہٹ سی ہے جسم میں...
اس نے ایسے ڈرایا، اور تم ڈر گئے؟ ایسا کیسے؟
نہیں... ایک بات اور بھی تھی...
جب اُس کے سامنے کسی دوسری عورت کا ذکر کیا تو چِڑ گئی وہ...
غصہ آ گیا، اور کہنے لگی:
چلا جا محسن!
یونہی قتل ہو جانا تُو میرے ہاتھ سے...
تب سے میں اس سوچ میں ہوں کہ میرے محرم کو کسی نامحرم کے ساتھ اتنی چِڑ ہے...
تو پھر رب کیوں چپ بیٹھا ہے؟
پتا نہیں شاید میں کفریہ باتیں کر رہا ہوں۔
چھوڑ... مجھے نہیں پتا میں کیا کر رہا ہوں۔
نہیں سمجھ آ رہا مجھے کچھ بھی...
چھوڑ...
رب، سنا ہے بڑا عجیب ہے، شراب خانے میں بیٹھے نافرمان کی بھی سُن لیتا ہے...
تو مجھے کوئی راہ دکھائے گا؟
اللہ جی، سوری... بھول چوک معاف...
---
تحریر: محسن کامل
فہد! اٹھیں، نماز پڑھیں۔
فہد! فہد!
کتنی دفعہ کہا ہے، کمبل نہ کھینچا کرو۔
زہر لگتی ہوں جب ایسی حرکتیں کرتی ہوں۔
نماز پڑھ لیں، دیکھیں تو، نماز کا وقت جانے کو ہے۔
اچھا، اٹھتا ہوں۔
ہاتھ تو لگائیے تولیہ کو،
کتنی دفعہ کہا ہے، دن کے وقت جب دھوپ ہوتی ہے، سوکھنے کو لٹکا دیا کرو۔
جائے نماز دوں؟
میں پتہ ہے کیا سوچ رہا تھا۔
کیا؟
مَیں سوچ رہا تھا جیسے یومِ حشر کا دن ہے، سب کے ہاتھ میں حساب والی کاپی ہے...
کسی کے دائیں ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں... اور سب لائن میں لگے ہیں...
تناؤ کا ماحول ہے۔
جبکہ میرا لائن میں نمبر ہے:
چھ سو کروڑ پچاس لاکھ بانوے ہزار تیس (600,50,92,030)
اور تمہارا ہے:
چھ سو کروڑ پچاس لاکھ بانوے ہزار دس (600,50,92,010)
یک دم کوئی آتا ہے اور میرے ہاتھ سے کاپی کھینچ لیتا ہے۔
میں اوپر دیکھتا ہوں... اور وہ تم ہوتی ہو، آمنہ۔
میں پوچھتا ہوں: کیوں لی میری کاپی؟
تم کہتی ہو: "میں آپ کا حساب بھی دوں گی۔"
آمنہ ! تمہیں میری نماز کی اتنی فکر کیوں ہے۔
میں نے اپنا حساب دینا ہے اور تم نے اپنا۔
اب بولو کچھ۔۔۔
بس کریں اب آپ...۔
اچھا سنیں...۔
میں بس چاہتی ہوں
کہ آپ
وقت سے اٹھیں، اور مسجد جا کر نماز پڑھیں...
اللہ کا کہا مانیں...
میں بھی اللہ کا کہا مانوں...
اور جب ہم لوگ مر کے اٹھیں تو...۔
تو کیا؟
تو ہم ساتھ ہوں...
---
تحریر: محسن کامل
پتا ہے کہ
کون ہے خُدا؟
خُدا یار وہ ہے، جو نہ ایک رائٹر ہے، لکھ دیتا ہے —
کچھ بھی، کسی کی کہانی میں۔
لیکن ایک بات ہے اُس کی...
رب ناانصافی نہیں کرتا۔
وہ جب دیکھتا ہے نا کہ میرے لکھے سے
کسی اور کو تکلیف ہوگی،
میرا کوئی دوسرا بندہ ہَرٹ ہو رہا ہے —
تو وہ آگے کی کہانی بدل دیتا ہے۔
اور پھر پوچھتا ہے:
"خوش ہو؟"
جب وہ پوچھتا ہے —
تو ہم مگن ہو جاتے ہیں، ہم اُس کی نہیں سنتے ...
پھر وہ مُسکراتا ہے،
"سوئیٹ ہارٹ...
اور کہتا ہے:
جیسے میرا بندہ خوش — ویسے میں خوش۔"
سچ بتاؤں تو میں کبھی رب سے ڈرا ہی نہیں...
مجھے پتا ہے
کہ وہ مان جائے گا،
اور معاف کر دے گا...
چاہے میں کچھ بھی کر لوں... ...
دیکھو نا،
وہ بہت پیار کرنے والوں میں سے ہے...
دیکھو تو —
تقدیر میں کچھ نہ ہو،
تو اگر بندہ ضد لگا لے،
تو وہ تقدیر بدل دیتا ہے...
مگر وہ شدت دیکھتا ہے —
کہ مجھ سے بات کرنے والا،
کتنی شدت سے مانگ رہا ہے...
مجھے لگتا ہے جب ہم خُدا سے دور بھاگتے ہیں،
کسی وجہ سے کچھ عبادت نہیں کرتے —
اور جب ہم اُسے مشکل میں
بلاتے ہیں نا:
"اللہ جی، ہماری مدد کریں،
بہت مشکل ہے..."
تو پکا خُدا خوش ہوتے ہوں گے
اور کہتے ہوں گے:
"دیوانے! تیرا عشق سچا ہے...
جب مشکل پڑی تو تُو نے کسی اور کو نہیں، مجھے پکارا۔"
پھر خُدا —
جو مشکل ہوتی ہے نا،
وہ دور کر دیتے ہیں...
اور کہتے ہیں:
"عیش کر، میرے بندے!"
وہ بہت سنتا ہے،
بس اُسے پکارنا چاہیے ہمیں —
باقی… وہ جادو دکھاتا ہے پھر۔
اور اُس کا جادو… بہت خوبصورت ہوتا ہے۔
کسی کو سمجھ ہی نہیں آتی اُس کے جادو کی...
لوگ سمجھتے ہیں:
"اس نے نکالا مشکل سے،
فلاں نے نکالا..."
حالانکہ اصل میں وہی نکالتا ہے —
مگر اُسے کوئی دیکھتا ہی نہیں…
اور اُس سے بات کرنے کے لیے
نہ ہاتھ اٹھانے کی ضرورت ہے،
نہ نماز کے وسیلے کی…
لیٹے ہو؟ لیٹے کہہ دو…!
اللہ جی، آپ سُن رہے ہیں... نا؟
میں، فلاں... بول رہا ہوں...
یہ کام پھنس گیا ہے...
ضرورت ہے اس چیز کی...
ذرا جلدی ہو جائے تو بہت اچھا ہوگا...
اور وہ... کر بھی دیتے ہیں!
اور خدا کب ناراض ہوتا ہے؟
جب ہم اُس سے بات نہیں کرتے…
بات کریں، شکایت کریں —
تو پھر وہ راضی ہو جاتا ہے…
پتا ہے؟
خدا عبادت کا لالچ نہیں کرتا۔
اور یہ نہیں کہتا کہ
"لائن لگا لو،
جس کے پاس جتنی نیکیاں ہیں، وہ آگے آئے..."
رب کا تو سین ہی الگ ہے!
وہ کہتا ہے:
"مجھ سے بات کرو...
باقی مجھ پہ چھوڑ دو،
باقی میرا کام ہے..."
اگر وہ عبادتیں دیکھنے لگ جاتا —
تو لوگ کیسے مانگتے...؟
اُس نے آزادی دی ہے،
اور کہا ہے:
‘موج کرو، میرے بندو!’
دیکھو تو…
اُس سے کچھ بھی نہیں چھپا —
وہ سب کچھ جانتا ہے…
تو پھر اُس سے دوستی کرنی چاہیے نا؟
اور کبھی حق سے،
کبھی دل سے،
اور کبھی التجا سے مانگنا چاہیے…
"اللہ جی، یہ چاہیے...
اور آپ دیں گے مجھے...
اور مجھے نہ چاہیے"
وہ ناراض نہیں ہوتا۔
دیکھو… پہلے تو وہ دے دیتا ہے،
اور اگر نہ بھی دے —
تو سمجھ لو کہ شاید شدت کم تھی۔
اگلی بار...
پھر سے شدت سے بات ہوگی
اور... مان لی جائے گی۔
دو طرح کے حقوق ہوتے ہیں:
حقوقُ اللہ
اور
حقوقُ العباد
حقوقُ اللہ وہ ہوتے ہیں جو اللہ کے بندے پر ہوتے ہیں —
جیسے نماز، روزہ، وغیرہ۔
اور حقوقُ العباد وہ ہوتے ہیں جو انسانوں کے ساتھ تعلق سے جُڑے ہوتے ہیں —
کہ آپ نے کس سے کیسا برتاؤ کیا؟
کسی کو دُکھ دیا یا خوشی؟
اور اگر کسی کو دُکھ دیا ہو —
تو خدا کہتا ہے:
"حقوقُ اللہ میں تو میں معاف کر دوں گا…
میرے موڈ پر ہے…"
"مگر جب بات آئے گی 'حقوقُ العباد' کی…
تو پھر پورا حساب لوں گا،
اور نہیں بخشوں گا!"
اور حقوقُ العباد میں سب سے بڑا جُرم؟
کسی کا دل دکھانا۔
جب خدا نے اپنے سامنے بٹھا لیا
اور کہا:
"اس کی چمڑی اُدھیڑو!"
تب سمجھ آئے گی…
اب سے اگر کوئی پوچھے:
"کون ہے خدا ؟"
تو کہنا:
" راز ہے… نہیں بتانا…"
اور اگر وہ دوبارہ پوچھے،
تو مسکرا کے کہنا:
"My Bestfriend!"